اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں انتظامی امور کی سہل انجام دہی اور گورننس کی مزید بہتری کیلئے وزیر اعلی کو تفویض شدہ اختیارات کی صوبے میں ایمرجنسی کی مدت کے دوران روزمرہ کے امور کی انجام دہی کیلئے گورنر خیبر پختونخوا کو منتقلی کی منظوری دے دی۔

وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں انتظامی امور کی سہل انجام دہی اور گورننس کی مزید بہتری کیلئے وزیر اعلی کو تفویض شدہ اختیارات کی صوبے میں ایمرجنسی کی مدت کے دوران روزمرہ کے امور کی انجام دہی کیلئے گورنر خیبر پختونخوا کو منتقلی کی منظوری دی۔


گورنر خیبر پختونخوا ایسے تمام اختیارات کے استعمال کے حوالے سے ہر ماہ وفاقی حکومت کو جائزہ رپورٹ پیش کریں گے. وفاقی کابینہ نے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا ایڈوائزی کونسل، گورنر خیبر پختونخوا کی قیادت میں صوبے کے عوام کی بہتری اور خوشحالی اور صوبے میں امن و امان کے قیام کیلئے بھرپور کاوشیں یقینی بنائیں گے.

وفاقی کابینہ نے پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کردی۔ پاکستان اور کویت کے مابین دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو طے پایا تھا، جس کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی شعبوں میں تعاون کا فروغ ہے، کویتی حکومت نے 19 جولائی اس معاہدے کی توثیق کی تھی۔


وفاقی کابینہ نے وزارتِ خزانہ کی سفارش پر نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی  منظوری دے دی۔ کابینہ کو نئے کرنسی نوٹس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔


بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن کیلئے ملک بھر سے مصوروں و ڈیزائنرز سے تجاویز لی گئیں اور وزیرِ اعظم کی جانب سے قائم کر دہ کابینہ کمیٹی نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اس پر تفصیلی مشاورت کی۔


اجلاس کو بتایا گیا کہ جعلی نوٹوں کی روک تھام کیلئے سیکیورٹی فیچرز بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید میٹریل کا استعمال کیا جائیگا جس سے نوٹوں کی استعمال کی معیاد میں بھی اضافہ ہوگا۔


وفاقی کابینہ نے دس روپے کے بینک نوٹ کی جگہ دس روپے کا سکہ متعارف کرانے کی بھی منظوری بھی دے دی۔

وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے حکومتی ملکیتی اداروں (CCOSOEs) کے 26 اکتوبر کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔

وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹیو کیسز (CCLC) کے 22 جنوری، 26 فروری، 5، 18 اور 27 اگست، 11 اور 22 ستمبر کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی