صوبائی دارالحکومت لاہور میں خشک موسم کی آمد کے ساتھ ہی فضائی آلودگی اور زہریلی سموگ کے تناسب میں خوفناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث لاہور عالمی درجہ بندی میں دنیا کے تمام بڑے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا۔


عالمی درجہ بندی کی فہرست سے معلوم ہوا ہے کہ لاہور 420 سے زائد اے کیو آئی کے ساتھ سرِ فہرست ہے، ازبکستان کا دارالحکومت تاشقند 196 اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے، پاکستان کا معاشی حب کراچی 170 کے ساتھ تیسرے، بنگلہ دیش کا شہر ڈھاکہ 166 کے ساتھ چوتھے اور بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی 156 اے کیو آئی کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔


محکمہ موسمیات اور عالمی ایئر کوالٹی انڈیکس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس اوسطاً 420 سے 478 تک جا پہنچا ہے، جو کہ انسانی صحت کے لیے انتہائی مضرِ صحت اور خطرناک تصور کیا جاتا ہے، شہر کے بعض گنجان آباد اور تجارتی علاقوں میں آلودگی کی شرح کی فضا میں تشویشناک صورتحال دیکھی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ علامہ اقبال ٹاؤن میں اے کیو آئی 704 کی بلند ترین اور ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، ماڈل ٹاؤن میں 481، برکی روڈ، شاہدرہ، کاہنہ نو، ملتان روڈ، پنجاب یونیورسٹی، جی ٹی روڈ، گلبرگ تھری، واہگہ بارڈر اور ایجرٹن روڈ جیسے اہم علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 500 کی آخری حد کو چھو رہا ہے۔


صوبائی سطح پر پنجاب حکومت کے ائیر کوالٹی مانٹیرنگ کے اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ گوجرانوالہ 500 اے کیو آئی کے ساتھ پنجاب کا آلودہ ترین شہر رہا، لاہور 478 کے ساتھ دوسرے، شیخوپورہ 336 کے ساتھ تیسرے اور ننکانہ صاحب 326 اے کیو آئی کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔


محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ لاہور شہر میں آج موسم خشک رہے گا، ہوا میں نمی کا تناسب صبح کے وقت 84 فیصد اور دوپہر کو 69 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا، ہوا کی رفتار محض 2 کلومیٹر فی گھنٹہ انتہائی سست رہنے کے باعث زہریلا دھواں فضا میں جمارہا ہے،

 شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 17 اور زیادہ سے زیادہ 30 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے اور باہر جانے کی صورت میں این 95 ماسک اور عینک کے لازمی استعمال کی ہدایت کی گئی ہے