واشنگٹن (پنجاب ڈیجیٹل ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات اور ممکنہ فوجی اقدامات پر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور تہران معاہدہ کا خواہش مند ہے، تاہم ایران زیادہ قابلِ بھروسا ملک نہیں کیونکہ وہ پہلے معاہدہ کرتا ہے اور پھر اس سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔


امریکی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہیں ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے لیے کوئی جلدی نہیں ہے، ہم دیکھیں گے کہ ایران حتمی معاہدہ کرتا ہے یا نہیں۔


ایران پر دوبارہ حملوں کے امکان سے متعلق پوچھے گئے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک انتہائی احمقانہ سوال ہے، اگر میں ایسا کوئی فوجی قدم اٹھانے کا ارادہ رکھتا بھی ہوں تو کیا میں میڈیا کے سامنے اس کا پہلے سے افشا کروں گا؟۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ملٹری کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہم اس سے قبل ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور جوہری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنا چکے ہیں، ابھی ایک یا دو دیگر جوہری تنصیبات پر کارروائی باقی ہے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ان تنصیبات کو صرف 10 منٹ کے اندر کارروائی کرکے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔


دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے لیے کسی مخصوص مدت کا تعین نہیں کیا گیا، تاہم امریکہ تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی حل کا حامی ہے۔


اسی اثناء میں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران پر بمباری دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ ممکنہ فوجی اقدام امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ہو سکتا ہے، صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔


ان تمام تر پیش رفت کے جواب میں ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے لب و لہجے میں نمایاں اور مثبت تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے، مجھے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا موصول ہونے والا خط مل چکا ہے جس کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم تاحال ایران کی طرف سے اس خط کا کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا ہے۔